23 اپریل 2012 - 19:30

ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (اورقرابت دار کو اس کا حق دو) تو نبی اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور فدک انہیں عطا فرمایا"

فدک، معتبرترین تاریخی دستاویز - 1

اور ہاں! کیا علی (ع) پیغمبر کے وصی نہیں تھے؟ اور یہ کہ وہ کیوں اس "حدیث مخصوص" سے بے خبر تھے؟ اور

اگر علی (ع) فاطمہ سلام اللہ علیہا کی حمایت میں حق بجانب تھے تو پھر ابوبکر نے سیدہ سلام  اللہ علیہا کا حق دینے سے انکار کیوں کیا؟

اب ایک بنیادی سوال:

قرائن اور نشانیوں منجملہ سورہ نمل کی سولہویں اور سورہ مریم کی چھٹی آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل نہیں ہوئی اور حق سیدہ (س) کی جانب تھا چنانچہ حضرت سیدہ (اسی بنا پر) ابوبکر سے ناراض ہوئیں اور ان سے راضی نہیں ہوئیں حتی کہ دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ تو اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ابوبکر «فاطمة بضعة منی من اغضبها اغضبنی» (39) اور « یا فاطمةُ! ان  اللہ یغضب لغضبِکِ و یرضی لرضاکِ» (40) "مَغضُوبٌ عَلَيهِمْ" میں شمار نہیں ہونگے؟ یہ ان لوگوں میں حساب نہ ہونگے جن کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَى (41) (= جس پر میرا غضب وارد ہوجائے و سقوط سے دوچار ہوگا)۔

اگر فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مطالبہ حق و حقیقت پر مبنی تھا تو پھر ابوبکر نے "لا نورث ما ترکنا صدقة" (42) کو رسول اکرم (ص) سے کیوں منسوب کیا؟ اس حدیث میں ارث نہ چھوڑنے کا مسئلہ تمام انبیائے الہی سے منسوب کیا گیا ہے؟ اور یہ امر صریح قرآن کے خلاف ہے کیوں کہ خداوند متعال نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے کہ انبیاء ایک دوسرے کے وارث تھے۔ وَ وَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ۔ (43) (= اور سلیمان اپنے والد داؤد کے وارث ہوئے) ۔ اور حضرت زکریا (علی نبیناو آلہ و (ع)) نے بارگاہ الہی میں التجا کی: فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا * يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ۔ (44) (= پس (اے پروردگار! مجھے ایسا ولی اور وارث عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو) پس اگر ابوبکر کی بات صحیح ہے اور رسول  اللہ (ص) نے واقعی فرمایا ہے کہ "لا نورث ما ترکنا صدقة" تو کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (معاذاللہ) قرآن کے خلاف بات کی ہے؟

اگر کوئی شخص عدم معرفت کی بنا پر پیغمبر اکرم (ص) کو معصوم تسلیم نہ کرے اور یوں تصور کرے کہ آپ (ص) معمولی امور یا تاریخی مسائل میں اشتباہ اور خطا کا ارتکاب کرسکتے ہیں، تو اس کا تصور ان امور میں ہوتا ہے جن کے سلسلے میں شرعی حکم صادر نہ ہوتا ہو (45) جبکہ یہ کلام جس موضوع پر دلالت کرتا ہے وہ شرعی حکم کا متقاضی ہے۔ تو اس قسم کی خطا رسول  اللہ (ص) سے کیونکر صادر ہوسکتی ہے؟ کیا رسول اکرم (ص) نے خود نہیں فرمایا کہ: "جو بات (حدیث) قرآن کے خلاف ہو (جان لو کہ) وہ میں نے نہیں کہی ہے۔"

اس کے با وجود کہ ابوبکر سے اس حدیث کا صدور یقینی ہے۔ (اور کوئی اس حقیقت کا انکار نہیں کرتا کہ یہ حدیث انھوں نے ہی رسول اکرم (ص) سے منسوب کرکے استدلال کے طور پر سیدہ سلام  اللہ علیہا کو سنائی ہے) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ابوبکر نے قرآن مخالف کلام رسول  اللہ (ص) سے منسوب کیا ہے؟

فرض کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) سے ایسی بات منسوب کی جائی جو حقیقت اور قرآن کے خلاف ہو یا کوئی ایسا کلام ابوبکر سے منسوب کیا جائے جو کلام نبی (ص) کے خلاف ہو تو ان دو باتوں میں سے کونسی بات بہتر ہے؟

ایک سوال اور:

کیا علی اور فاطمہ (علیہما السلام) نے اس بات کی یاد آوری نہیں کرائی کہ ابوبکر کا کلام قرآنی نصّ کے منافی ہے؟ یا یہ کہ اور فاطمہ (علیہما السلام) نے ابوبکر کے کلام کی تردید کرتے ہوئے آیات قرآنی سے استدلال و استشہاد کیا ہے؟ گو کہ بخاری وغیرہ نے یہ استدلالات ثبت کرنے سے اجتناب کیا ہے!۔

ابن سعد اور سیوطی نے روایت کی ہے کہ جب ابوبکر نے "لانورث ما ترکنا صدقة" سے استدلال کیا تو علی (ع) نے فرمایا: وَ وَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ (46) اور حضرت زکریا (علی نبیناو آلہ و (ع)) نے بارگاہ الہی میں التجا کی: فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا * يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ (47) اور ابوبکر نے علی (ع) کے استدلال کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہی ہے۔ چنانچہ علی (ع) نے فرمایا: هذا کتاب  اللہ ینطق" (= یہ کتاب الہی ہے جو بول رہی ہے)۔ (48)

چلئے ہم فرض کرتے ہیں کہ یہ حدیث درست ہے اور رسول اکرم (ص) نے واقعی فرمایا تھا کہ "لانورث ما ترکنا صدقة" اور فرض کرتے ہیں کہ یہ بات قرآن کے منافی نہیں ہے۔ یہ فرض بھی بخاری کی حدیث کی تأئید نہیں کرتا اور بات وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے کہ بخاری کی حدیث درست اور قابل قبول نہیں ہے۔

کیوں اور کیسے؟

اس لئے کہ: جو کچھ رسول  اللہ (ص) نے اپنے بعد چھوڑ رکھا تھا وہ سب آپ (ص) کی حیات طیبہ میں آپ (ص) کی ذاتی ملکیت تھا اور بخاری کی حدیث کے مطابق وہ سب کچھ آپ (ص) کی وفات کے بعد صدقے اور وقف میں تبدیل ہؤا ہے۔ اور پھر ذاتی ملکیت میں آپ (ص) کا عمل اور آپ (ص) کی روش الگ ہے اور موقوفات و صدقات میں الگ۔ (یعنی ذاتی املاک و اموال اور موقوفات و صدقات میں آپ (ص) کی روش اور آپ (ص) کا عمل الگ الگ ہے)۔

پس ابوبکر نے کیونکر کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زمانے میں صدقات جس حال میں تھے میں بھی انہیں اسی حال پر چھوڑوں گا اور ان میں تبدیلی نہیں لاؤنگا اور صدقات میں اسی طرح عمل کروں گا جس طرح رسول  اللہ (ص) عمل کیا کرتے تھے؟

حالانکہ رسول  اللہ (ص) ان میں اپنی شخصی ملکیت کے حوالے سے عمل کیا کرتے تھے (جنہیں اب ابوبکر نے صدقہ قرار دیا تھا جبکہ اس وقت یہ صدقہ نہیں بلکہ رسول  اللہ (ص) کے ذاتی اموال و املاک تھے)؟ اور ابوبکر کو موقوفات اور صدقات کے متولی کی حیثیت س عمل کرنا چاہئے تھا۔ اگر حدیث "لانورث ما ترکنا صدقة" درست ہے تو عائشہ نے اس کی مالکیت کا دعوی کرکے اپنے والد یعنی ابوبکر کو کیوں اس گھر میں دفنایا؟ (49) تمام شواہد و دلایل ثابت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ سلام  اللہ علیہا نے ابوبکر کی دلیل قبول نہیں فرمائی جیسا کہ بخاری اور اہل سنت کے دیگر محدثین نے تأکید کی ہے مگر اس کے باوجود بعض افسانہ پردازوں اور تاریخی جعلیات میں حقیقت کا رنگ بھرنے والوں نے الفت و محبت کی نغمہ خوانی کے واسطے حقیقت پر الٹی کھال چڑھا کر لکھا ہے کہ جب ابوبکر نے پیغمبر اکرم (ص) سے روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ "لانورث ما ترکنا صدقة" جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے ان کی بات قبول کی اور اور ابوبکر سے فرمایا: ان صدقات اور فدک میں اسی طرح عمل کریں جس طرح کہ رسول اللہ عمل فرمایا کرتے تھے!!۔

ایک طرف سے تو اس دعوے کی کوئی سند نہیں ہے اور دوسری طرف سے صحیح بخاری اور دیگر صحاح و مسانید میں منقولہ روایات سے مغایرت رکھتا ہے کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اپنی عمر مبارک کے آخری لمحوں تک فدک کے بارے میں اپنے مطالبے پر اصرار کرتی رہیں اور چونکہ ابوبکر مسلسل انکار کررہے تھے لہذا حضرت سیدہ سلام  اللہ علیہا نے ان سے آخر عمر تک قطع تعلق کیا اور آخری سانسوں تک ان سے قطع کلام کیا اور اسی امر پر بخاری اور مسلم سمیت دیگر صاحبان صحاح و مسانید نی بھی تأکید کی ہے۔ (50)

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد حضرت علی (ع) فدک کے مطالبے پر اصرار کرتے رہے۔ اس سلسلے میں بھی متعدد احادیث صحیح مسلم اور صحیح بخاری سمیت اہل سنت کے دیگر صحاح و مسانید میں منقول ہیں۔ (51) اور ان احادیث میں فدک کی واگذاری سے انکار کے سلسلے میں حضرت علی (ع) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا عباس رضوان اللہ علیہ کی آراء بھی بیان ہوئی ہیں۔

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ عمر نے کہا: جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وفات پائی ابوبکر نے کہا میں رسول اللہ کا ولی ہوں۔ تم (عباس اور علی) آگئے پس تم نے (اے عباس!) اپنے بھتیجے (رسول  اللہ (ص)) کے ترکے سے اپنا حصہ مانگا اور اس (علی (ع)) نے اپنی زوجہ (حضرت فاطمہ (س) کے والد (رسول اللہ (ص)) کے ترکے سے ان (جناب سیدہ (س)) کا حصہ طلب کیا۔ پس ابوبکر نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ "ہم انبیاء ارث نہیں چھوڑا کرتے اور جو کچھ ہو اپنے پیچھے چھوڑتے ہیں وہ صدقہ اور وقف ہوتا ہے" اور تم دونوں ابوبکر کو جھوٹا، گنہگار، مکار اور خائن سمجھتے ت